دوستی یا محبت

Written by:

دوستی اور دوستانہ


انسانی زندگی رشتوں سے مزین ہوتی ہے۔ایک انسان اپنی زندگی میں بہت سے رشتوں اور تعلقات سے جڑا ہوتا ہے اور یہی انسان کی زندگی کی خوبصورتی اور دلکشی ہے۔انسانوں کے درمیان آپس میں فہم و فراست کا رشتہ ہوتا ہے،دانشورانہ تعلق ہوتا ہے۔لیکن کچھ رشتے اور تعلقات انتہائی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں ۔ایک رشتہ استاد اور شاگرد کے درمیان ہوتا ہے،اس رشتے میں عزت اور محبت کا کردار اہم ہوتا ہے۔ماں بیٹے کا رشتہ ،ماں اور بیٹی کا رشتہ،بھائیوں کا بہنوں اور بہنوں کا بھائیوں کے ساتھ رشتہ ،میاں بیوی کا رشتہ ،ان تمام رشتوں اور تعلقات کا تعلق دل سے ہوتا ہے۔ان سب تعلقات اور رشتوں کی اپنی اپنی خوبصورتی ہے۔ان تمام رشتوں میں ایک رشتہ دوستی کا بھی ہوتا ہے،یہ رشتہ یا تعلق میری نگاہ میں سمندروں سے زیادہ گہرا اور محبت سے زیادہ بلند اور اونچا ہوتا ہے ۔یہ تعلق محبت سے بھی زیادہ گہرا اور وسیع اس لئے ہوتا ہے کہ محبت تو کبھی کبھار ختم ہو سکتی ہے ،انسان کی زندگی سے غائب ہو سکتی ہے یا پھر یہ محبت نفرت میں بھی بدل سکتی ہے، لیکن دوستی کبھی ختم نہیں ہوتی۔جس سے انسان محبت کرتا ہے،اس سے نفرت بھی کرتا ہے،اس سے دشمنی بھی کرتا ہے ،لیکن دوستی میں ایسا نہیں ہوتا ۔دوستی کے رشتے تو سمندر کی گہرائی جیسے ہوتے ہیں اور آسمانوں جیسی وسعت سے بھرپور ہوتے ہیں ۔اکثر میں دوستوں کی محفل میں کہا کرتا ہوں کہ انسان اگر چاہیں تو ایک دوسرے سے محبت نہ کریں ،لیکن ایک دوسرے سے دوستی ضرور کریں ۔ہر انسان کی زندگی میں بہت سارے دوستوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔محبت انسانوں میں پابندیوں کا سبب بن سکتی ہے،انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ نتھی کردیتی ہے۔لیکن دوستی انسانوں کو آزادی سے نوازتی ہے،محبت انسان کو غلام بھی بنا دیتی ہے،کیونکہ انسان محبت میں ملکیت کی خواہش کو بہت اہمیت دیتے ہیں ۔محبت آقا اور غلام جیسا رشتہ ہے،لیکن دوستی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا ۔اس میں کوئی غلام اور کوئی آقا نہیں ہوتا ،اس میں برابری ہوتی ہوتی ہے۔دوستی انسانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پابند نہیں کرتی،کیونکہ دوستی تو آزادی ہے۔محبت کرنے والے کہتے ہیں ،ان کے درمیان کوئی تیسرا نہ آئے،دوستی کا ایسا کوئی مطالبہ نہیں ہوتا ۔ایک انسان کے ہزاروں ،لاکھوں دوست ہو سکتے ہیں ۔کیونکہ دوستی میں آسمانوں جیسی وسعت جو ہے۔دوستی انسانوں کے درمیان گہرا تجربہ ہے ،رشتہ صرف دانشورانہ نہیں ہونا چاہیئے،رشتہ یا تعلق صرف دل سے نہیں ہونا چاہیئے،رشتے یا تعلق میں گہرائی ہونی چاہیئے اور گہرائی صرف دوستی جیسے عظیم رشتے میں ہوتی ہے۔دوستی بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ کے تعلق جیسی نہیں ہوتی،دوستی ایسی محبت کا نام ہے جس میں بائیولوجیکل موسیقی کا عمل دخل نہیں ہوتا ۔محبت کی کیمسٹری میں تبدیلی ممکن ہے ،لیکن دوستی کے رشتے میں ایسا کچھ ممکن نہیں ۔دوستی ایک بہت نایاب رشتہ ہے۔دوستی قربانی کا نام ہے،اس میں کاروباری رویہ نہیں ہوتا ،دوستی تو ایسی محبت ہے جس میں خالص پن ہونا بہت ضروری ہے ۔انسانوں میں دوستانہ تعلق یا رشتہ اس وقت ممکن ہے ،جب انسان خالص اور حقیقی ہوگا ۔جب انسان جینوئن ہوگا ۔جب انسان باشعور اور بصیرت سے بھرپور ہوگا ۔دوستانہ رشتے میں مخالفت نہیں ہوتی ،لیکن آزادی ضرور ہوتی ہے۔کسی نے کچھ سال قبل دوستی اور دوستانہ رشتے پر ایک فقرہ کہا تھا ،کہ دوستانہ تعلق آسمان پر بہت دور بلندی پر نظر آنے والے اس ستارے کی طرح ہے جو ہمیشہ چمکتا رہتا ہے،اس کی چمک میں کبھی کمی نہیں آتی۔دوستی کے رشتے کو پھول سے بھی مشابہت نہیں دی جاسکتی ،یہ تو خوشبو کا نام ہے۔دوستانہ رشتے کو محسوس کیا جاسکتا ہے ،لیکن اسے جکڑا یا قید نہیں کیا جاسکتا ۔دوستی کا تعلق اس قدر نایاب اور منفرد اور گہرا ہے کہ انسان کے ہاتھ چھوٹے پڑ جاتے ہیں ۔یہ عظیم رشتہ ہے ،لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ یہ کہیں بھی نہیں ہے ۔دوستی انسان کی روحانی نشوونما میں مدد دیتی ہے،کیونکہ یہ خدا سے جڑی ہے۔اس کا تعلق زمینی نہیں ،کہا جاتا ہے کہ اگر محبت درست سمت میں سفر کرتی رہے تو یہ دوستی میں بدل جاتی ہے،اور اگر محبت درست سمت میں سفر نہ کر سکے تو دشمنی اور نفرت میں بدل جاتی ہے۔لاکھوں محبت کرنے والے ایک دوسرے سے نفرت کرنے لگتے ہیں ،ایک دوسرے کے دشمن بن جاتے ہیں ،کیونکہ انہیں معلوم نہیں ہوتا کہ وہ اس محبت کو کیسے دوستی میں بدلیں ؟دشمنی کا مطلب کسی انسان کو آسمان سے نیچے زمین پر گرانا ہوتا ہے ،لیکن دوستی کا مطلب کسی انسان کو زمین سے آسمان کی بلندیوں پر لے جانا ہوتا ہے ،کسی کو آسمان سے نیچے زمین پر گرانا آسان ہے ،لیکن زمین پر سے لیکر آسمان کی بلندیوں پر لے جاتا مشکل کام ہے ۔اس لئے زمین پر انسان ایک دوسرے کے دوست نہیں ہیں ،لیکن لاکھوں کروڑوں انسان ایک دوسرے کے دشمن ضرور ہیں ۔دوستی آسمان کی طرف سفر کرنے کا نام ہے ۔دوستی میں حسد ،جلن ،نفرت جیسی بدصورتیاں نہیں ہوتیں ،محبت کی طرح اس میں غلبہ پانے کا جذبہ بھی نہیں ہوتا ،دوستی قربانیاں ضرور مانگتی ہے،لیکن دوستی جیسی محبت میں حقیقت ،سچ ،خالص پن ہوتا ہے ۔بدقسمتی ہے کہ آج کا مسلمان دوستی کو سمجھ نہیں پایا ،مذہبی منافرت اور منافقت نے آج کے مسلمان میں دوستی جیسے لازوال رشتے کو برباد کر دیا ہے ۔یہ مسلمان دوستی کے تعلق سے ناواقف ہے۔یہ مذہبی لٹریچر میں دوستی اور محبت کی کہانیاں تو پڑھتا ہے،ہر جمعے کے دن مولویوں سے کہانیاں سنتا بھی ہے ،لیکن اس پر یقین نہیں کرتا ،کیونکہ اس کے لاشعور میں یہ بیٹھ چکا ہے کہ ایسی دوستی اب ممکن نہیں ہے۔ہم زہریلے ہیں ،ہم قاتل ہیں ،ہم دہشت گرد ہیں ،ہم انتہا پسند ہیں ،ہم دنیا کو برباد کررہے ہیں ،اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم دوستی کے لازوال رشتے کو سمجھ نہیں پارہے ہیں ۔ہم اکثر سنتے ہیں کہ دوستی بہت اعلی ار برتر رشتے اور تعلق کا نام ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت کا اگلہ قدم دوستی ہے ۔محبت میں جذبات ہیں ،لالچ ہے،جسمانی لذت کی کیفیت کا اھساس ہے،دوستی میں ایسا کچھ نہیں ۔دوستی میں ٹھنڈک ہے،محبت میں گرمی ہے ۔اسی وجہ سے دوستی محبت سے اعلی اور عظیم ہے ۔محبت میں کبھی انسان کو ساری کائنات خوبصورت نظر آتی ہے اور کبھی ساری کائنات بدصورت ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ محبت تبدیلی کی کیفیت سے گزرتی رہتی ہے ،لیکن دوستی میں اس طرح کی تبدیلی کی کیفیت نہیں آتی ۔محبت میں موسم ہیں ،یہ ادھر ادھر بھٹکتی رہتی ہے۔جو انسان محبت سے گزر کر بہت دور جاکر ابھرتے ہیں ،وہی تو انسان ہیں جو دوستی کو سمجھتے ہیں ۔محبت پہلا قدم ہے اور دوستی محبت کا معراج ہے ۔دوستی میں افراد کا آپس میں تعلق ہوتا ہے ،شخصیات کبھی بھی ایک دوسرے کی دوست نہیں ہو تی۔شخصیت تو نقلی ہوتی ہے اور فردیت میں اصلیت ہوتی ہے ،اس لئے دوستی افراد کے درمیان پنپتی اور نشوونما پاتی ہے۔ہمارے معاشرے کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ شخصیات سے مالا مال ہے ۔اور افراد سے محروم ہے۔پاکستان کا معاشرہ دنیا اور آخرت کی خواہشات کی وجہ سے زہریلا بن چکا ہے ،اس لئے اس میں دوستانہ رشتہ ممکن نہیں ۔کیا ایسے معاشرے میں دوستی پنپ سکتی ہے جہاں رمضان کے مہینے میں اسی سالہ بوڑھے کو اس لئے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے کہ اس نے بھوک مٹانے کے لئے روزے کے اوقات میں کچھ کھانا کھا لیا ۔ایسے معاشرے میں دوستی کا رشتہ ممکن ہی نہیں ہے ۔جن انسانوں کے زیادہ سے زیادہ دوست ہوتے ہیں ،اصل میں وہی تو انسان ہیں جو حقیقی امیر ہیں ۔جو کائنات سے بھی زیادہ امیر اور دولت مند ہیں ۔جو ماؤنٹ ایورسٹ اور آسمان سے بھی زیادہ دولت مند اور امیر ہوتے ہیں ۔جس مسلمان معاشرے میں ہم رہ رہے ہیں ،یہاں ہر انسان ایک دوسرے کا دشمن ہے۔وہ بھی جو دعوی کرتے ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔یہ سب منافق ہیں ،جو صرف اپنے اپنے مفادات کے لئے لڑ رہے ہیں ۔امیر غریب کا دشمن ،نواز شریف راحیل شریف کا دشمن ،جمہوریت آمریت کی دشمن ،ہم سب ایک دوسرے کے دشمن ہیں ۔لبرل مولوی کا دشمن ،مولوی لبرل کا دشمن ،پھر دوستی کیسے ممکن ،ہم تو سرحد کے پار اور سرحد کے اندر جگہ جگہ دشمنی پالنے کے ٹھیکیدار ہیں ۔دوستی کو بھی منافقت کی شکل میں یہاں پیش کیا جاتا ہے ۔یہ ہماری اسٹریٹیجی کا حصہ ہے ۔اسے ہم ڈپلومیسی کہتے ہیں ۔جہاں دوستی ڈپلومیسی بن جائے ،اس معاشرے میں پھر قتل و غارت گری ہی ہوگی ۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started