پاکستان مشکل موڑ سے گزر رہا رہا ہے

Written by:

پاکستان مشکل موڑ سے گزر رہا رہا ہے
یہ جملہ آپ نے پچھلے 75 سالوں میں ہزاروں مرتبہ سنا ہو تو چلو آج بات کرتے ہیں آخر یہ مشکل موڑ کیا ہے اور کب ختم ہوگا
ملکِ پاکستان کے نظام کو چلانے کیلئے جو مافیہ بیٹھا ہوا ہے اس نے ایک وسیع دائرہ بنایا ہوا ہے جس میں عام آدمی یا غریب آدمی داخل نہیں ہو سکتا یہ لوگ سب سے پہلے کڑور روپے ڈھیر سارے جھوٹے وعدے کرکے عوام سے ووٹ لیتے ہیں اور جب یہ حکومت میں آتے ہیں تو سب سے پہلے جو پیسے انہوں نے الیکشن جیتنے کیلئے لگائے ہوتے ہیں وہ کسی طرح سے پورے کرتے ہیں اس کے علاوہ میرے اور آپ کے ٹیکس کے پیسوں سے آیاشیاں کرتے ہیں یہ لوگ ان پانچ سالوں میں اس قدر پیسہ جمع کر لیتے ہیں کہ اگلے کئی برسوں تک بیٹھ کر سکوں سے کھا سکتے ہیں۔ اس سارے وقت میں جو مہنگائی ہوتے ہے اس سے غریب عوام کو فرق پڑتا ہے ان لوگوں کی پراپرٹی اور بنک بیلنس کو مہنگائی کی وجہ سے اور بڑھ جاتا ہے سب آپ خود سوچیں کہ یہ مشکل موڑ کس کیلئے ہوتا ہے ؟

انٹرنیشنل پالیسیز کیسے بنائی جاتی ہیں





دنیا بھر میں جو نمائندے منتخب ہوتے ہیں وہ خود کو عوام کا ملازم سمجھتے ہیں اور وہ عوام میں جاکر دیکھتے عوام کو کیا مشکلات پیش آرہی ہیں پھر ان مشکلات کے پیش نظر پارلیمان میں قانون سازی کی جاتی ہے جس سے ڈائرکٹ عوام مستفید ہوتی ہے اور ہاں منتخب نمائندوں کا کام ہی عوام کیلئے قانون سازی کرنا ہوتا ہے ۔

ملک پاکستان میں پالیسیز کیسے بنائی جاتی ہیں


جب کہ ہمارے ملک میں جو قانون سازی کی جاتی ہے اس سے یہ مافیا خود مستفید ہوتا ہے اور عوام کو چورن بیچا جاتا ہے کہ ٹرانسفارمر لگا کر دیں گے روڈ بناکر دیں گے میں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ یہ گورنمنٹ کا کام ہوتا ہے کہ وہ عوام کو مختلف سروسز دے سن سروسز کی مد میں ٹیکس لے جیسے روڈ بنانا نیشنل ہائی وے اتھارٹی کا کام ہے وہ اس کے بدلے ٹول ٹیکس کولیکشن کرتی ہے اور بجلی فراہم کرنا واپڈا کا کام ہوتا ہے وہ اس کے بدلے ٹیکس کولیکشن کرتی ہے جس سے گورنمنٹ کو آمدن ہوتے ہے یہ کام گورنمنٹ کا ہوتا ہے ناکہ منتخب نمائندوں کا ۔
پارلیمنٹیرینز کا کام ہوتا بیٹھ کر ایسی پالیسیز بنانا جس سے عوام کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچے مختلف سروسز دیکر اور وہ اس کے بدلے عوام سے ٹیکس کے جس سے ملک کی اکانومی مضبوط ہو ۔

اصلاحات




پاکستان میں اگر اس طرح کی پالیسیز بنائی جائیں کہ جیسے پیٹرول کی مثال لیتے ہیں پیٹرول ہر آدمی کو ایک پرائس پر نا ملے بائیک والے کو 40% پر ملے کیونکہ ایک بائیک والے کی انکم تھوڑی ہوتی ہے جبکہ چھوٹی گاڑی والے کو اور پبلک ٹرانسپورٹ کو 50% اسی طرح جیسے جیسے زیادہ انکم والے کی باری آتی جائے اس کو پیٹرول اتنا ہی مہنگا دیا جائے لاسٹ میں جو امیر طبقہ بچ جائے اس کو پیٹرول 200% مہنگا ملے کیونکہ اس کو فرق نہیں پڑتا اسی طرح گاڑی، گھر ، اور دیگر چیزوں کی قیمتوں کو بھی ڈیفرنٹ رکھا جائے سارا بوجھ غریب عوام پر نا ڈالا جائے۔
جو فری فسیلیٹیز امیر طبقے کو فراہم کی جاتی ہیں فری پیٹرول فری بجلی فری گیس فری گھر یہ ساری ختم کرکے اسنڈیسٹری کو دی جائیں تاکہ ملک میں زیادہ سے زیادہ چیزیں بنائیں جائیں جنہیں ایکسپورٹ کرکے زر مبادلہ کمایا جائے ۔

Leave a comment

Design a site like this with WordPress.com
Get started